بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛عید اللہ الاکبر عید غدیر، حضرت آیت اللہ العظمی امام سید روح اللہ موسوی خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی سینتیسویں برسی اور شہید حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ) کی قیات کے آغاز کی سالگرہ کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ)، کا پیغام بیک وقت امام خمینی (رح) کے حرم مطہر میں، انقلاب اسلامی کے عظیم بانی کی یاد میں منعقدہ تقریب میں، تہران کے عارضی امام جمعہ حجۃ الاسلام و المسلمین حاج علی اکبری، کے ذریعے پڑھ کر سنایا گیا۔
انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرّحمن الرّحیم
اَلحَمدُ للهِ الَّذی جَعَلَ کَمالَ دینِه وَ تَمامَ نِعمتِه بِوِلایةِ امیرِالمؤمنین علیِبنِ اَبیطالِب علیهالسّلام
عید سعید غدیر کے موقع پر ـ ایران اور پوری دنیا میں - تمام مسلمانوں اور بابائے امت اسلامیہ، امیرالمؤمنین علی (صلوات اللہ و سلامہ علیہ) کے محبین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور حضرت امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی روحِ مُطَہَّر پر سلام و درود بھیجتا ہوں۔ اس سال خمینی کبیر (رحمۃ اللہ علیہ) کے فراق کے بعد سینتیسواں 14 خُرداد (4 جون) ہے اور وہ پہلا 14 خُرداد ہے جب امت کے پدر مہربان، مرید اور مکتب امام کے وفادار اور ممتاز حامی اور ساتھی، رہبر عظیم الشان شہید انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ الشریف) ضیافت الٰہی کے مہمان ہوئے ہیں اور ان کی مضبوط آواز اور حکیمانہ اور پراثر کلام کی گونج امام کے مرقدِ مطہر میں سنائی نہیں دے رہی ہے۔ لیکن اسلامی جمہوریہ کے بانی کے 10 سالہ سالہ بیانات و مکتوبات اور رہبرِ شہیدِ عظیم الشان کے 37 سالہ بیانات اور مکتوبات کا مجموعہ، ہم سب کے لئے ایک قیمتی اورعدیم المثال اثاثہ اور مستقبل کے راستے کے لئے روشنی کا مینار ہے۔
اولاً، آج عید غدیر اور عید اللہ الاکبر ہے؛ عہدِ معہود اور میثاقِ مأخوذ کا دن جس میں خدائے متعال نے معاشرے اور اسلامی نظام کے انتظآم کا فریضہ واضح فرمایا ہے اور اکمالِ دین و اتمامِ نعمت کو ـ حضرات معصومین (صلوات اللہ علیہم اجمعین) کی جاری ولایت و امامت کے ذریعے ـ سر انجام دیا ہے۔
امامینِ انقلاب کی زندگی کے فخر و اعزاز کی سند امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی پیروی ہے
غدیر اس ہستی کی یاد دلاتا ہے جس نے اپنی شریف ترین حیات طیبہ کے آغاز سے، ـ کعبہ میں ولادت سے لے کر فَوزِ شہادت تک ـ
اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے لئے اور اللہ کی راہ میں گذارا۔ اس بنا پر آنحضرت، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) وجودِ مُکَرّم کے بعد، زندگی کے تمام ادوار میں، اور تمام مسلمانوں اور مؤمنین کے لئے اسوۂ اعلیٰ اور جامع و کامل نمونہ سمجھے جاتے ہیں، اور یہ بہت مناسب اور بہت ضروری ہے کہ چھوٹے بچے سے لے کر معمر لوگوں تک اور معاشرے کے عام افراد سے لے کر علماء، دانشوروں، سیاستدانوں اور قائدین تک، سب آنحضرت کا اقتداء کریں؛ جیسا کہ امامین انقلاب کی زندگی کے فخر و اعزاز کی سَنَد بھی اسی بزرگوار کی پیروی ہی ہے۔
ثانیاً، آج امام امت (رحمة اللہ علیہ) کی برسی ہے اور یہ اس مشہور، مگر کم جانی-پہچانی شخصیت کے بارے میں غور و فکر اور گفتگو کا ایک قیمتی موقع ہے۔ ایک پرکشش شخصیت جس کے نورانی راستے اور مقصد کی گہری سمجھ اور پہچان، اسلامی ایران کے مستقبل کے لئے روشنی کا مینار ہے؛ لیکن ملت کے بہت سے افراد جو عہد شباب سے گذر رہے ہیں، آپؒ کو براہ راست سمجھنے کی توفیق حاصل نہیں ہوئی ہے؛ یہاں تک کہ بہت سے لوگ ـ جنہوں نے آپؒ کا کی حیات کا زمانہ نہیں دیکھا، وہ بھی امامؒ کے کردار اور مکتب کی گہرائی تک کم ہی پہنچ پائے ہیں۔
اللہ کے لئے قیام (اٹھان) مکتب امامؒ کا سنگ بنیاد
قالَ اللهُ تَعالیٰ: "قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ؛ (سورہ سباء، آیت 46)
خدائے تبارک و تعالیٰ اس آیت شریفہ میں رسول اللہ الاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں:
امت سے کہئے کہ میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، وہ یہ کہ تم اللہ کے لئے دو دو مل کر اور [یا] اکیلے اٹھو۔"
یہ آیت کریمہ، سب سے پہلے پیغام کا مطلع، اور ان قدیم ترین دستاویزات میں سے ایک، ہے جس میں ہمارے زمانے کے عبد صالح کی بے مثال شخصیت ہمارے عصر و زمانے کی عظیم روح، انقلاب اسلامی کے رہبرِ کبیر رہبر اور جمہوریہ اسلامی کے بانی، نے ایرانی قوم کو خدا کے لئے قیام (اٹھنے) کی دعوت دی ہے۔ جی ہاں، قیام لله، امام کے مکتب کا سنگ بنیاد ہے اور آپؒ کی وجودی برکات و آثار میں سے اہم ترین، معاشرے پر ان کی ہدایت، تربیت اور گہرا اثر اسی اصول کی بنیاد پر استوار ہے۔
یہی الہی حرکت و پیشرفت، ـ راہ راست پر معاشرے کی ہدایت میں، ربوبی برکات و توجہات کے نزول اور حضرت حق (جل و علا) کی سنت کے جاری ہونے کا ـ سرچشمہ ہے جیسا کہ خدائے حکیم نے فرمایا:
"وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا؛ (سورہ عنکبوت، آیت 69)۔
اور جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا، انہیں ہم اپنی راہوں پر استوار رکھتے ہیں۔"
آپ کا تبصرہ